ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیرالہ میں چلتی ٹرین میں نامعلوم شخص نے مسافروں پر پھینکا آتش گیر مادہ ، لگائی آگ؛ تین لوگوں کی موت، وزیراعلیٰ نے دیا تحقیقات کا حکم

کیرالہ میں چلتی ٹرین میں نامعلوم شخص نے مسافروں پر پھینکا آتش گیر مادہ ، لگائی آگ؛ تین لوگوں کی موت، وزیراعلیٰ نے دیا تحقیقات کا حکم

Mon, 03 Apr 2023 12:55:11    S.O. News Service

کوزیکوڈ،3/اپریل (ایس او نیوز) ایک دو سالہ لڑکی سمیت تین مسافر ریلوے ٹریک پر مردہ پائے گئے اور نو  دیگر جھلس کر زخمی ہوگئے،  جب کیرالہ میں کنور جانے والی ایکسپریس ٹرین میں نامعلوم شخص نے ساتھی مسافروں کو آگ لگا دی۔ بربریت کا  یہ واقعہ اتوار کی دیر رات پیش آیا۔

میڈیا ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  یہ واردات  کیرالہ کے الاتور میں الاپوزا-کنور ایگزیکٹیو ایکسپریس ٹرین (16307) کے ڈی-1 کوچ میں پیش آئی۔ بتایا گیا ہے کہ  ایک نوجوان نے مسافروں پر آتش گیر مادہ چھڑک  کر آگ لگادی تھی۔ ذرائع کے مطابق  آگ سے بچنے کی کوشش میں چھلانگ لگانے سے دو سالہ بچہ سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ جبکہ 3 خواتین سمیت 9 مسافر جھلس کر زخمی ہوگئے۔  پولس نے ریلوے ٹریک سے مشتبہ حملہ آور کا ایک بیگ بھی برآمد کیا ہے اور بیگ سے دو موبائل اور ایک بوتل پٹرول اور نوٹ پیڈ ملا ہے، ملزم کی گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔

پولس کو قریبی عمارت میں نصب سی سی ٹی وی کی فوٹیج ملی ہے جس میں مبینہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہوتے نظر آ رہا ہے۔ جبکہ واقعے کے بعداتوار اور  پیر کی درمیانی رات  قریب  01:30 بجے کوراپوزا پل کے نزدیک الاتور میں ریلوے ٹریک پر تین لاشیں ملیں۔ ان کی شناخت مچھلی کے تاجر نوفق (40)،  رحمت (45) اور رحمت کی بہن کی بیٹی سارہ (2) کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع کنور کے متنور کے رہنے والے ہیں۔ واقعے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد کو پولیس نے کوزیکوڈ میڈیکل کالج کے اسپتال اور دوسرے نزدیکی اسپتالوں میں داخل کرایا ہے۔

آگ لگانے کا واقعہ اتوار رات تقریباً 2130 بجے پیش آیا، جب ٹرین الاتور ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ  ایک نوجوان ڈی-2 کوچ سے ڈی-1 میں داخل ہوا اور بیٹھے ہوئے مسافروں پر آتش گیر مائع یا پٹرول  پھینک دیا  اور ساتھی مسافروں کو آگ لگا دی۔

پولیس نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ ایک نامعلوم شخص دو بوتلوں کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوا تھا جس میں مشتبہ طور پر آتش گیر مواد موجود تھا، ٹرین جیسے ہی کوزیکوڈ ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی  چند منٹ بعد ہی وہ شخص ایک مخصوص کوچ میں داخل ہوا۔ اور بغیر کسی اشتعال کے ساتھی مسافروں پربوتلوں میں موجود آتش گیر مواد پھینک  کر انہیں آگ لگا دیا۔خوف زدہ مسافر دوسرے ڈبوں کی طرف بھاگنے لگے، جس کے دوران کسی  نے  زنجیر کھینچی اور ٹرین  کوراپوزا کے ایک پل پر رک گئی۔جس کے بعد  مبینہ حملہ آور فرار ہو گیا۔

بتایا گیا ہے کہ   کوچ سے جن تین  مسافروں نے باہر چھلانگ لگائی تھی، اُن کی   لاشیں پیر کی صبح  برآمد ہوئی ہیں۔ پولس نے شبہ ظاہر کیا کہ آگ لگنے سے بچنے کے لئے ان تینوں نے باہر چھلانگ لگائی ہوگی۔

اسپتال کے ذرائع کے مطابق تمام  مسافروں کی حالت مستحکم ہے۔ ضلع پولیس سربراہ راجپال مینا اور کوئلنڈی سے فائر بریگیڈ کے عملہ نے موقع پر پہنچ کر مسافروں کو اسپتال پہنچایا۔ ریلوے پولیس، سٹی پولیس اور فورنسک ماہرین نے ریلوے ٹریک سے برآمد ہونے والی چيزوں، بوگیوں اور تھیلوں سے شواہد اکٹھے کئے ہیں ۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے KMCH لے جایا گیا ہے۔

واقعے پر فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے  کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین، جن کے پاس ہوم پورٹ فولیو بھی ہے، نے بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ وجین نے واقعے کو چونکا دینے والا قرار دیا اور کہا کہ پولیس نے مجرم کو پکڑنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ریاستی پولیس سربراہ انیل کانتھ تحقیقات کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "ریاستی حکومت ریل مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ ساتھ ساتھ  مرکزی وزارت ریلوے سے بھی کہا جائے گا کہ وہ ریل کے مسافروں کی حفاظت پر زیادہ زور دیں ۔


Share: